Tuesday, 13 September 2016

عید کی خوشیوں میں گم اداس چہرے۔.......۔۔۔۔۔تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

عید کی خوشیوں میں گم اداس چہرے۔
           ۔۔۔۔۔تحریر: فاروق شہزاد ملکانی

عید قرباں تمام اہل اسلام کیلئے خوشیوں اور ایثار کا پیغام لاتی ہے۔بچے ،بوڑھے،مردو عورت اس دن کو نئے ولوے ،جوش اور عقیدت کے ساتھ مناتے ہیں۔صاحب ثروت قربانی کا اہتمام کرتے ہیں،خود اور اہل خانہ کونئے نئے ملبوسات زیب تن کراتے ہیں۔
مگر ان کے بیچ بہت سے افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو نہ تو قربانی کرتے ہیں اور نہ ہی ڈھنگ کا لباس پہنتے ہیں۔ان کے پژمردہ چہروں پر اداسی کی لکیریں صاف دکھائی دیتی ہیں۔قربانی کرنے کی بجائے وہ خود قربانی کا بکرا بنے ہوتے ہیں اور وہ کبھی ملک کے نام پر تو کبھی مذہب کے نام پر قربان ہوتے ہیں۔
فلاحی ریاست کے نام پر ہمارے حکمران ان سے حب الوطنی کا ثبوت دینے کیلئے ہر روز ہر لمحے قربانی مانگتے ہیں اور وہ بے چارے لبیک کہتے ہوئے اپنا سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ غریب آدمی اگر اپنے گھرکا چولہا جلانے کیلئے ماچس کی ڈبیہ بھی خرید لے تو اسے ٹیکس در ٹیکس کی مدمیں 30 % سے زائد قربانی دینا پڑتی ہے جبکہ اربوں کمانے والے ہمارے سر کے سائیں ایک دھیلا بھی ٹیکس دینا گوارا نہیں کرتے۔باقی رہا اشیاء ضروریہ پہ ٹیکس دینے کی بات تو وہ اپنی تمام تر خریداری سرحد پار کے ممالک سے کرتے ہیں اور اپنی معیشت کا بیڑا غرق کرکے اغیار کی نیاپارلگانے میں بھرپورکردار ادا کرتے ہیں اورپاکستان آکے سادہ لوح عوام کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کیلئے انہی ممالک کے خلاف جھوٹ موٹ کے مردہ باد کے نعرے لگواتے ہیں۔
بھوک اور افلاس کی ماری عوام جھوٹ اور فریب کے گورکھ سوراخوں سے با ربار ڈسنے کے باوجود ہربار پھر سے دھوکہ کھانے کیلئے تیار ہوتی ہے اور شکاری نیا جال لے کر شکار کرنے کو تیار ہوتے ہیں اور ہمیشہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں اور بے چاری عوام ان کی فتح پر اور اپنی ناکامی پر شادیانے بجاتی ہے اور بعدازاں اپنی قسمت پر ماتم کناں ہوتی ہے مگر اپنی حرکتوں سے سبق حاصل نہیں کرتی۔اگلی بار پھر وہی عمل دہراتی اور اپنی بربادی پر خوشیوں کے بینڈ بجاتی ہے اور کچھ ہی دنوں میں آنسو بہاتی نظر آتی ہے۔
طاقت کی غلام گردشوں کے نامور کھلاڑی اپنا کھیل کھیلنے میں نہ صرف مہارت دکھاتے ہیں بلکہ اپنی فتح کو یقینی بنانے کیلئے ہر داؤ پیچ آزماتے ہیں اور یوں کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور صرف دلفریب نعروں سے بہل جانے والی عوام ایک بار پھر مصیبتوں میں گھری نظر آتی ہے۔
ہوس زر کے مارے اس بالادست طبقے نے عام عوام کو روزی روٹی سے بھی محروم کردیا ہے۔ 
وطن عزیزمیں ہر میدان میں واضح طور دو طبقوں کے بیچ میں لکیر کھنچی ہوئی ہے،ایک طرف وہ طبقہ ہے جو منہ میں سونے کاچمچہ لے کر پیدا ہوتا ہے تو دوسری طرف وہ طبقہ ہے جسے دیکھ ہر ذی شعور اور حساس انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا ہی کیوں کیا ہے۔ فاقے اور بدحالی کی انتہادیکھ کر بھی اس بالادست طبقے کے دلوں پر احساس کی ہلکی سے آہٹ بھی نہیں ہوتی کہ آخر اس دنیا سے اٹھ ہی جانا ہے پھر کس منہ سے اپنے خالق حقیقی کے دربار میں پیش ہوں گے۔
مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ان کی ہوس شاید ختم نہیں ہوگی۔عام آدمی عام ہی رہے گااگر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرے گا ،اپنے شعور کو جلا نہیں بخشے گا، اپنے فیصلے خود نہیں کرے گا اور فیصلہ کرتے وقت تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح وقت پر صحیح فیصلے نہیں کرے گااور ایک سوراخ سے ایک بار ڈسے جانے کے بعد دوسری بار دھوکہ نہیں کھائے گا۔کسی بھی سیاسی پارٹی کا جیالا،متوالا اور دیوانہ نہیں بنے گا صرف میرٹ پر مقامی طور پر اچھے،ایماندار اور باکردار شخص کو چن کر اسمبلی میں نہیں بھیجے گا۔
اگر ہم نے بحیثیت قوم ایک ہوکر اپنی حالت بدلنے کا تحیہ نہ کیا تو آئندہ بھی وہی کچھ ہوتا رہے گا جو قیام پاکستان سے آج تک ہوتا آیا ہے،آپ کے حق پر کوئی غاصب ہی قابض رہے گااور آپ کے بچے یوں ہی بغیرچھت،ننگے پاؤں اور بھوکے پیاسے رہیں گے۔
آج سے تحیہ کر لیں کہ آج کے بعد ووٹ صرف اسی کو دیں گے جو آپ کے ضمیر کے مطابق نیک ،ایمانداراور ملک و قوم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا ہو۔کسی نیلی پیلی سبز سرخ اور سفید پارٹی کے چنگل میں پھنسے بغیراور کسی تمندار،سردار،گدی نشین ،پیراور سیاسی شعبدہ باز کے جال میں آئے بغیر اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کریں گے اور یہی سوچ کر فیصلہ کریں گے کہ یہ 
" ہمارے بچوں کی زندگی کا سوال ہے" 

Sunday, 14 August 2016

کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ تحریر۔۔۔فاروق شہزاد ملکانی

کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
تحریر۔۔۔فاروق شہزاد ملکانی
**************************
آج 14 اگست 2016 کی صبح جب میرے پانچ سالہ بیٹے محمد صفیان نے مجھے کہا کہ ابو آج جشن آزادی ہے مجھے جھنڈیاں اوربیج چاہیءں تو مجھے وہ جھنڈیاں اور بیج یاد آگئے جو میں اس موقع کیلئے کچھ دن قبل ہی ملتان سے لایا تھا۔تو میں نے اس سے کہا کہ بیٹا یہ سب کچھ آپ کو مل جائے گا بس ذرا ناشتہ کرلو۔
اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں یہ سوال بھی سر اٹھانے لگا کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں یا ہمیں صرف یا دلانے کیلئے یہ دن منایا جاتا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی میرے ذہن میں گردش کرنے لگے کہ کہیں آزادی کے نام پر امیر اشرافیہ کو غریب عوام پر مسلط تو نہیں کیا گیا؟آزاد وطن کیلئے جب بھی قربانی کی بات کی جاتی ہے تو ہمیشہ غریب عوام سے ہی کیوں قربانی مانگی جاتی ہے؟
کیا امیراشرافیہ اتنی کنگال ہے کہ وہ وطن کیلئے تھوڑی سی قربانی بھی نہیں دے سکتی؟
کیا دوسرے ممالک خاص طور پر امریکا ہماری سرزمین پر ڈرون حملے کرکے ہماری آزادی اور خودمختیاری کا مذاق نہیں اڑا رہے؟
اور ہم ٹیکنالوجی اور صلاحیت رکھنے کے باوجود ان ڈرون طیاروں کو مار گرانے کی ہمت نہیں کرتے کہ ہم خود اپنے آپ کو آزاد وخودمختیار ملک ماننے کو تیار ہی نہیں؟
ہماری لولی لنگڑی جمہوریت صرف سرمایہ دارانہ نظام کے زیرتسلط ہی کیوں ہے؟ کیوں ایک ایماندار،محب وطن،دیہاڑی دار مزدور انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا؟
کیوں ایک بیوہ ماں لاہور کی عدالت میں کھڑے ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہوتی ہے کہ میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کے قاتلوں کو معاف نہیں کیا مگر میں کیس کی پیروی بھی نہیں کرسکتی کیوں کہ میرے گھر میں جوان بیٹیاں ہیں،میں اپنے بیٹے کو توکھو چکی ہوں مگر میں اپنی بیٹیوں کی عصمت تارتار ہوتے نہیں دیکھ سکتی،کیا ہم نے آزاد ملک اسی دن کیلئے حاصل کیا تھا؟
کیا ہمارے آزاد ملک کو قلیل سرمایہ دار اشرافیہ نے یرغمال نہیں بنا لیا؟
کیا ہم مسلمان ہونے کے باوجود بھوک کے ڈر سے فیملی پلاننگ کے نام پر اپنی نسلوں کواس دنیا میںآنے سے نہیں روک رہے؟
اور اس سے بھی تلخ حقیقت یہ ہے کہ آئے روز والدین اپنے معصوم بچوں کو مار کر خودکشیاں کررہے ہیں کیا اس میں بھی مملکت کا کوئی قصور نہیں کہ وہ عوام سے ٹیکس درٹیکس تو وصول کررہی ہے مگر دووقت کی روٹی مہیا کرنے سے انکاری ہے؟
آئے روز غریب عوام کے سینکڑوں بچے اغوا اور غائب کئے جارہے ہیں انہیں تحفظ فراہم کرنا ریاست کا کام نہیں؟
کہا جاتا ہے کہ دوسرے ممالک میں اتنے لاکھ بچے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں،میں دنیا کے ان ٹھیکیداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کو اسلام کے نام بنے اس وطن عزیز میں فٹ پاتھ پر سوتے بچے نظر نہیں آتے؟مجھے وہ ایک سال سے سات سال کی عمر کے فٹ پاتھ پرسوئے وہ بچے رہ رہ کر الجھن کا شکار کردیتے ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ ایم ڈی اے چوک ملتان اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے ملے تھے۔خاک ہی جن کا اوڑھنا بچھونا تھی اور کچرے کے ڈھیر سے روزی روٹی کی تلاش ان کا سب سے بڑا کام تھا۔
کیا حکومتوں کا کام صرف سستی شہرت کیلئے اربوں روپے سے میٹرو بسیں بنانا ہے؟ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنا نہیں؟عوام کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنا نہیں؟عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا نہیں؟
کب تک عام آدمی کو جذباتی باتوں اور جذباتی نعروں سے بہلایا جاتا رہے گا؟
کیا پاکستان اسی لیے بنایا گیا تھا کہ یہاں لاقانونیت اور کرپشن کا راج ہو، ہر جائز کام کیلئے بھی دام درکار ہوں؟
آخر میں بس اتنا ہی کہ آزادی کے کھوکھلے نعرے پیٹنے کی بجائے پاکستان کو ایک مکمل ملک بنایا جائے،نعروں اور جذباتی نعروں سے عوام کو بہلانے کی بجائے عملی کام کئے جائیں۔
جس دیس کے کوچے کوچے میں افلاس آوارہ پھرتا ہو
جودھرتی بھوک اگلتی ہو،جہاں دکھ فلک سے گرتا ہو
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی آہوں پہ پالے جاتے ہوں
جہاں سچائی کے مجرم بھی زنداں میں ڈالے جاتے ہوں
جہاں مظلوموں کے خون سے محل اپنے دھوئے جاتے ہوں
اس دیس کی مٹی برسوں سے یہ دکھ جگر پہ سہتی ہے
اور اپنے دیس کے لوگوں کو جشن آزادی مبارک کہتی ہے
جشن آزادی مبارک